نیودہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں جنسی زیادتیوں کا شرمناک طوفان مکمل طور پر
قابو سے باہر ہوگیا ہے اور اب اس نے متوسط اور بااثر طبقے کی باحیثیت
خواتین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک تازہ ترین واقعے میں ایک خاتون
جج کو جنسی درندگی کا نشانہ بنادیا گیا ہے اور اس کی عصمت کو تار تار کرنے
کے بعد اسے قتل کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ یہ واقع بھی ریاست اترپردیش
میں پیش آیا ہے جہاں حال ہی میں دو بہنوں کے گینگ ریپ کے بعد ان کی برہنہ
لاشوں کو ایک درخت سے لٹکا دیا گیا تھا اور اس کے بعد ایک خاتون کے گینگ
ریپ کے بعد اس کا چہرہ تیزاب ڈال کر مسخ کردیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق
خاتون جج کو علی گڑھ میں اُس کی سرکاری رہائش گاہ پر درندگی کا نشانہ بنایا
گیا۔ اسے نشہ آور ادویات بھی کھلائی گئیں اور زیادتی کے بعد زہر پلا کر
مارنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے مطابق خاتون جج کے بھائی کی رپورٹ پر
قانونی کارروائی شروع کی جاچکی ہے لیکن ہسپتال میں بھرپور کوششوں کے باوجود
ابھی تک متاثرہ خاتون کی حالت انتہائی خطرے میں ہے اور وہ اس قابل نہیں ہے
کہ اس سے بات کی جاسکے۔ بھارت میں عورتوں کے گینگ ریپ کے بعد قتل کی اسقدر
بھرمار ہوگئی ہے کہ یہ شرمناک جرم عالمی سطح پر اس ملک کا تعارف بن چکا
ہے۔

No comments:
Post a Comment